عشاء کے بعد جب سارا گاؤں خاموشیوں اور گھپ اندھیروں میں ڈوب جاتا ، ویرانیوں اور تنہائیوں کے سائے سارے گاؤں کو اپنی آغوش میں لے لیتیں تو تھوڑی دُور ایک گھنے درخت کے پاس سے ایک درد بھری آواز سارے ماحول کو افسردہ کر دیتیں۔

وہ سردی، گرمی سے بے نیاز دہائیوں سے اسی جگہ موجود تھا۔ یہ آواز شاید یادوں کو الفاظ میں ڈھال کر ،تب تک سُنائی دیتی جب تک یہ رندھ سی نہ جاتی اور آہستہ آہستہ خاموش ہو جاتی گاؤں والے اس کے عادی تھے لیکن میں نے پہلی بار سُنا تھا.
نانا ابو سے پوچھا تو انہیں نے بتایا کہ قیامِ پاکستان کے وقت نانا ابو کے والد صاحب یعنی ہمارے پرنانا جی کے ساتھ ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے تب سے یہیں پہ ہیں اور اس وقت سے یہی رات کو دکھ بھری آواز ہی سُنتے آئے ہیں اس کے علاوہ یہ کسی سے کوئی واسطہ کوئی غرض نہیں رکھتے۔ چونکہ میرے پرنانا جی یہاں آباد ہونے کے کچھ عرصہ بعد شہر جا بسے تو کبھی ہم اسی طرف نہیں آئے، پھر جب نانا جی ڈاکٹری شعبے سے ریٹائرڈ ہوئے تو دہائیاں پہلے چھوڑے اپنے آبائی گاؤں واپس لوٹ آئے اور مجھے پہلی بار یہاں آنے کا موقع ملا.

خیر فیصلہ کیا کہ ان سے ملا جائے،جانا جائے کہ یہ کون ہیں؟ کئی دن صبح  کے وقت وہاں جا کہ دیکھتا رہا مگر کوئی موجود نہ ہوتا صرف ایک چٹائی، چند برتن، پانی کا گھڑا، ایک جائے نماز اور چند بوسیدہ سے کپڑے ہی ملے۔ وہ چٹایوں کا کام کرتے تھے تب ہی پتے وغیرہ بھی پاس پڑے ملے اور چند ادھ بُنی چٹائیاں۔

صبح سویرے نکل جاتے ہیں اور خدا معلوم کس وقت لوٹ کے آتے۔ وہ پچھلے 50 ،55  سال سے ادھر اسی معمول کے ساتھ جی رہے تھے، انکی عمر بھی لگ بھگ 80 کے قریب ہوگی لیکن ان میں مشقت کی جان ابھی بھی باقی تھی۔ نانا ابو کے تعارف کرانے کے بعد میرے دل میں ان سے ملاقات کا شُوق اور بڑھ گیا۔ میں ملاقات کی خواہش میں انکے ٹھکانے پر پہنچ جاتا لیکن انتظار کرتے کرتے واپس آجاتا معلوم نہیں وہ کس وقت آتےتھے۔ رات کو انکی آواز سُن کے پھر بےچین سا ہوجاتا لیکن اسوقت ان کو تکلیف دینا مناسب بھی نہیں لگتا.

ایک دن باہر نکلا تو دیکھا وہ اپنی جھونپڑی کے پاس درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے مجھے موقع مناسب لگا اور انکے سر جا پہنچا۔ وہاں جاکہ سلام کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ میں نے پھر ذرا اونچی آواز میں سلام کیا تو انہوں نے مڑکے دیکھا اور کہا آج طبیعت ٹھیک نہیں ہے چٹائیاں نہیں بنائیں۔

میں نے کہا میں چٹائیاں لینے نہیں آپ سے ملنے آیا ہوںوہ حیران سا ہوئے اور پُوچھا کون ہو بیٹا اور مجھ سے ملنے ایک فقیر سے بھلا کوئی ملنے کیوں آئے گا؟
 میں نے جواب دیا بابا جی رات کو آپ کی آواز کا درد مجھے سکون نہیں لینے دیتا۔ آپ کون ہیں آپکا گھر بار کہاں ہے؟ آپکے بیوی بچے کہاں ہیں؟ میں نے نانا ابو سے آپکے بارے سُنا ہے لیکن میں خود آپ سے سننا چاہتا ہوں۔ انہوں نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے کہا جا بیٹا تنگ نہ کرو.
میں اُس دن چُپ چاپ واپس لُوٹ آیا لیکن انکی داستان جاننا چاہتا تھا کہ آخر ایک شخص ساری دُنیا چُھوڑ کے 50 سالوں سے ایک جگہ کیسے رہ رہا ہےکچھ تو ہے جس نے انکو بُری طرح تُوڑ کے رکھ دیا ہے۔

 خیر دُوسرے دن انکے پاس پہنچا تو بُخار سے انکا جسم تپ رہا تھا طبیعت بُوجھل تھی۔ انکو کہا کہ میں نانا ابو کو بلالاتا ہوں وہ ڈاکٹر ہیں لیکن انہوں نے سختی سے منع کردیا. میں نے ان سے منت سماجت کی  کے مجھے آپکے بارے میں جاننا ہے یہ تو جانتا ہوں بابا  کہ آپ قیامِ پاکستان کے وقت سے یہاں پہ ہیں لیکن آپ یہاں اکیلے کیوں ہیں؟ کیا آپکے ساتھ اور کوئی نہیں تھا؟ آپکا گھر کہاں ہے؟ آپکے بیوی بچے، آپکے بہن بھائی خاندان سب کہاں ہے؟ میں نے ایک ہی سانس میں کئی سوالات پُوچھ لیے۔

 وہ خاموش رہے میرے بہت اصرار کے بعد انہوں نے  لرزتے ہاتھوں سے ایک پُرانے سے تھیلے سے ایک پُرانی لیکن بھاری بھرکم ڈائری نکالی اور میرے حوالے کرتے ہوئے بُولے یہ شام تک مجھے واپس کردینا یہ میری کُل کائنات ہے۔ اسکے علاوہ انہوں نے میری کسی بھی قسم کی مدد لینے سے انکار کردیا.
میں وہ ڈائری والی دہائیوں پرانا تھیلی لے کر گھر پہنچا اور وہ تھیلا کھولا تو اس کے اندر مختلف عمر کے لُوگوں کے کچھ کپڑے تھے جو کہ شاید خشک لہو کی وجہ سے اکڑ چکے تھے.

وُہ کپڑے میں نے دُوبارہ تھیلی میں ڈالے اور ڈائری نکال لی۔ ڈائری کے پہلے صفحات پر چند تصاویر تھیں جن میں صرف بابا جی کو ہی پہچان سکا۔ بابا جی کی تصاویر اس بات کو ظاہر کر رہی تھیں کہ بابا جی کسی کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور انکی فیملی کافی بڑی تھی، آپ خود اندازہ لگا سکتےہیں کہ جس وقت لوگ کیمرے کا نام تک نہیں جانتے تھے اس وقت کوئی کھاتا پیتا شخص ہی تصویریں لینا افورڈ کرسکتا ہوگا۔

خیر ان تصویروں کو دیکھنےکے بعد ڈائری کی طرف آتا ہوں اور آگے جو اختصار سے لکھوں گا وہ الفاظ بابا جی کے ہوں گے جیسے انہوں نے اپنی ڈائری میں درج کیے تھے۔ ڈائری کے پہلے ورق پہ جو تاریخ درج تھی وہ تاریخ تھی۔22 اکتوبر 1957 یعنی پاکستان بننے کے 10 سال بعد۔ ڈائری طویل ہےمختصر بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔

"میرا نام محمد بشیر ہے میں 1925 میں ہندوستان میں پنجاب کے ایک گاؤں کے کھاتے پیتے گھرانے میں پیدا ہوا۔ ایک نہایت خوشحال گھرانا جس میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ خاندان کافی بڑا تھا دادا جی کے 8 بیٹے اور 3 بیٹیاں تھی سب ہی شادی شدہ تھے اور قریبی علاقوں میں ہی آباد تھے۔

ابا کا منڈی میں غلے کا بہت بڑا کاروبار تھا۔ پیسے کی ریل پیل تھی چونکہ میں اپنے گھر میں بڑا بیٹا تھا  تو کافی توجہ دی گئی، اچھے سکول میں ڈالا گیا۔
کچھ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ابا نے 15 سال کی عمر جبکہ اس وقت میرے دُو اور بھائی اور دُو بہنیں ہوچکی تھیں اور مجھے بھی ذمہ داری کا احسا س ہوا تو میں ابا کا ہاتھ بٹانے کے لیے انکے ساتھ کاروبار بھی سنبھالنے لگا اور تعلیم بھی جاری رکھی۔
اس وقت ابا سے ملنے آنے والے ابا کے دوست احباب سے سُنا کرتا تھا کہ ایک محمد علی جناح ہیں جو مسلمانوں کے لیے اپنا گھر چاہتے ہیں یعنی ایک الگ ملک۔ یہ باتیں میری سمجھ سے بالاتر تھیں مگر اپنے اردگرد رہنے والے ہندوؤں کا برتاؤ مجھے کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور دکھائی دیتا۔
خیر وقت گزرتا گیا کاروبار سنبھالنے کے ایک سال بعد ہی ابا جی نے میری شادی میری چچازاد سے کرادی۔ شادی کے ایک سال بعد مجھے اللہ نے ایک بیٹے سے نوازا۔ زندگی گزرتی رہی اور 1947ء میں جب میں 22 سال کی عمر میں قدم رکھ رہا تھا اس وقت میرے دُو بیٹے اور ایک بیٹی میرا کل سرمایہ تھے۔

جوں جوں 1947 کا سال آگے بڑھتا گیا پڑوس میں بسنے والے ہندؤوں اور اردگرد کا ماحول ہم پہ تنگ ہوتا گیا۔ روز ہی کسی نہ کسی مسلمان کے شہید ہونے کی خبریں ہمیں کرب میں مبتلاء کررہی تھیں، مسجدیں جلائی جارہی تھیں، سامان لوٹ لیا جاتا، دکانیں جلائی جانے لگیں مار پیٹ روز کا معمول بن گیا۔

اگست 1947 کے شروع میں ابا کی طبیعت ناساز ہونے کے سبب ابا نے وصولی کے لیے مجھے ممبئی بھیجا. مجھے ممبئی میں کچھ دن لگ گئے لیکن وصولی تو درکنار جان کے لالے پڑگئے آخر 13 اگست کی رات آئی جب پاکستان بننے کا اعلان ہوا اور ہر طرف ایک ادھم مچ گیا۔

وہ دن مسلمانوں کے لیے کسی طور قیامت صُغریٰ سے کم نہ تھا ہمیں ہندوستان چھوڑ کر پاکستان جانے کا کہہ دیا گیا تھا۔
ہر طرف آگ اور خون کا دریا تھا، لاشوں کے انبار بکھرے دیکھے کل تک جو گاؤں زندہ لوگوں کی آماجگاہ تھا آج وہ قبرستان بنا ہوا تھا لوگوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹا جارہا تھا۔

میں بمشکل اپنے گاؤں پہنچا اور بےبسی اور بےچینی میں حویلی کی طرف بھاگا، ہر طرف آگ ہی آگ ہے ننگی تلواریں لیے وحشی گردنیں کاٹنے میں مصروف۔کیا بچہ، بُوڑھا، جوان، مرد، عورت سب ہی کو کاٹ کاٹ کر آگ میں ڈالےجا رہے تھے، میں وہی جلتے مکان میں چھپ کے بیٹھا یہ سب دیکھتا رہا۔
جب ظالموں نے اپنی پُوری تسلی کرلی کہ پیچھے کوئی زندہ تو نہیں بچ گیا پھر وہاں سے بھاگ نکلے۔میں فوراً اپنی حویلی کی طرف بھاگا لیکن وہاں اردگرد کا ماحول بھی بالکل  مختلف نہ تھا۔

جب حویلی میں پہنچا تو فوراً اماں ابا کےکمرے کی جانب بھاگا جہاں اماں ابا اپنے بستر پہ ذبح کر دیے گئے تھے میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا پل بھر میری جنت چھن گئی۔
فوراً وہاں سے اپنے بہن بھائیوں کے پاس پہنچا لیکن انکی کچھ خبر نہیں تھی کہ وہ کہاں ہیں ۔بھاگتا ہوا بیوی بچوں کے کمروں میں پہنچا توایک نیزہ میری بیوی کے جسم کے آر پار تھا۔میری بیٹی کا نام و نشان نہیں تھا، میرےبڑے بیٹے کا جسم چھریوں کے وار سے چھلنی ہوچکا تھا میرے چھوٹے بیٹے کا جسم بوٹیوں میں بٹا ہوا تھا۔

میرا سب اجڑ چکا تھا ہنستا بستا گھر لاشوں کا میدان بن گیا تھا۔ جمع پونجی لوٹ لی گئی،گھر کو آگ لگا دی گئی، دو دن پہلے تک ہنستا بستا گھر خاک و خون کی نذر ہوچکا تھا۔ اس وقت مجھے جو کچھ ملا اس میں میرے بچوں کی یہی قمیضیں تھیں جو مجھے اٹھانے کو ملیں کہ جو لہو سے تر تھیں آگے شاید یہی میرا کل سرمایہ ہو اور دیوار پہ ایک لگی یہ تصویریں.

میرا جسم میرے ہاتھ پیر شل تھے بیٹی اور بہن کا سوچ سوچ میرا کرب ناقابلِ برداشت ہوچلا تھا۔روتا دھاڑیں مارتا اپنے آپکو ملامت کرتا کہ میں کیوں نہ تھا انکے ساتھ۔میرے پاس کچھ نہ بچا نہ ماں نہ باپ، نہ بہن نہ بھائی، نہ بیوی نہ بچے آہ میری وہ ننھی بیٹی خدا جانے آج وہ کہاں ہوگی کس حال میں ہوگی ۔ میرا بھائی میری وہ پھول سی بہن جو میرے گھر داخل ہوتے ہی میرے گلے لگ جاتی تھی  وہ ناجانے کہاں ہوگی۔

بہن ،بھائی ،بیٹی ،کی تلاش میں گھر کا چپہ چپہ چھان مارا لیکن کوئی نہ ملا۔میں ادھر ہی تھا کہ کچھ مسلمان وہاں آئے میرے نہ چاہتے بھی وہ مجھے وہاں سے کھینچ کے لے گئے کہ بلوایوں نے پھر حملہ کردیا ہے بھاگو یہاں سے.
وہاں سے نکلنے کے بعد میں سیدھا اپنے رشتہ داروں کی طرف بھاگا کہ شاید میرے بہن، بھائی میری بیٹی کو لے کر انکے ہاں موجود ہوں لیکن وہاں بھی لاشیں ہی منتظر تھیں دس افراد میں ایک بھی زندہ نہ بچا سب نہایت بیدردی سے قتل کیے جا چکے تھے وہاں سے ایک دو افراد کو ساتھ لے کر اپنے چچا کے گھر بھاگا  وہاں صرف چچا کے دو بیٹے زندہ بچے تھے جو عمر میں چھوٹے تھے اور ڈر کے چھپنے کی وجہ سے بچ گئے۔

وہ ڈرے سہمے سکتے کے عالم اپنے ماں باپ کی لاشوں کو لپٹے ہوئے تھے۔بہت ہی مشکل سے کھینچ کرکے انکو اپنے ساتھ لے آیا۔ جس گھر، جس گلی جس محلے سے گزرتے لاشوں کے ڈھیر، گلیاں خون سے تر،آگ کی جھلساء دینے والی تپش اور ہر طرف آہو بکا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے میدانِ محشر بپا ہو۔

 اب میں تھا اور میرے پورے خاندان میں سے صرف یہی دو بچے ہی مجھے ملے باقی سارے خاندان میں اکثر یا تو مارے گئے، زندہ جلادیے گئےاور یا پھر لاپتہ ہوچکے تھے۔ کوئی بھی گھرانہ ایسا نہیں تھا جو سلامت بچا ہو۔ ہم بھاگتے گرتے پڑتے بچے کچے لوگوں کو جلتے مکانوں سے نکلتے بھاگتے دیکھ رہے تھے.
اتنا سب کچھ لُٹ جانے کے بعد بھی میری یہ بھاگ دوڑ خود کو زندہ رکھنے کے لیے نہیں بلکہ صرف ایک بار اپنے مسلمانوں کے لیے بنائے اپنے ملک میں قدم رکھنے اور سجدہِ شکر ادا کرنے کے لیے تھی اس امید پہ زندہ رہنا چاہتا تھا کہ شاید شاید شاید میرے وطن پہنچ کر کہیں میرے بہن ،بھائی میری بیٹی مجھے مل جائیں، کہیں ٹکرا جائیں مجھ سے۔

ایک ایک جاننے والے سے اپنے بہن بھائیوں کے بارے میں پوچھتا رہا لیکن کوئی خبر نہیں وہ کہاں گئے۔اپنے چچازادوں کو اپنے ایک جاننے والے کے سپرد کرکے واپس اپنی حویلی کی طرف بھاگا کہ شاید بچے کہیں چھپے ہوں یا شاید مجھے کہیں دیکھ لیں۔ راستے میں جو بیچارے گھروں میں چھپے ہوئے تھے وہ آگ کی لپیٹ میں آکر جلے ہوئے بدن کے ساتھ ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے لیکن ہم سب بے بس تھے ہم نے اپنے لیے کچھ کر سکتے تھے اور نہ دوسروں کے لیے۔

میں جب اپنی حویلی تک پہنچا حویلی آگ کی لپیٹ میں آکر پوری طرح جل  کا خاکستر ہو چکی تھی اور میرا گھر بار اسی مٹی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہوگیا۔ میں کتنا بدنصیب ہوں مجھے نہ بچانے کو گھر ملا نہ دفنانے کو گھر والوں کی میتیں۔ ماں باپ بیوی بچے راکھ کا ڈھیر بن گئے۔

واپس آیا بچوں کو ساتھ لے کر بھاگتا رہا وہاں کسی نے بتایا کہ فلاں جگہ سے ریل گاڑی پاکستان کے لیے روانہ ہورہی ہے۔ ہم بےسروساماں، بھوک،پیاس ، اگست کی شدید گرمی اور سروں پر آگ برساتا سُورج، گرمی کے رُوزے اور زخموں سے نڈھال، چاروں طرف آگ، ہم بھاگتے جا رہے تھے۔
بچے پیاس سے تڑپ اٹھے اور مزید بھاگنے سے قاصر تھے۔میں نے دونوں بچوں کو اٹھایا اور بھاگتا ہوا دور سے ہی ایک ٹرین کو دیکھ لیا۔میرا سارا غم جیسے راحت میں بدل گیا اپنا گھر کیا ہوتا ہے مجھے سے بہتر اب کون جاسکتا تھا بھاگتے بھاگتے ریل گاڑی تک پہنچے۔

ریل پہ سوار ہونے کے بعد اک نظر اپنے اس ہنستے بستے گاؤں پہ ڈالی جو چند دن پہلے تک خوشیوں کا گہوارہ تھا اب وہ گاؤں پوری طرح آگ کی لپیٹ میں آکر دھوئیں کے بادلوں کا مسکن بن چکا تھا۔ہمیں کھینچ کھانچ کر ریل گاڑی میں سوار کیا گیا۔ ریل گاڑی اللہ کے آسرے پاکستان کی جانب چلنے لگی۔

سب ہی بے یارو مددگار جس کو جہاں جگہ ملی وہ وہیں گرپڑا۔ہر طرف آہو بکاءجاری تھی آنسو تھے، چیخ و پکار تھی کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ بچے دیوانہ وار اپنے والدین کو ڈھونڈ رہے تھے، والدین بچوں کے لیے مارے مارے پھر رہے تھے لیکن اس عالم میں کہاں کسی نے کسی کو مل جانا تھا۔

میرے چچاذاد بچے جو نڈھال ہو چکے تھے بڑی اذیت سے آنکھیں کھولی اور پانی مانگا۔ میں نے ساتھ موجود ایک بھائی کو بچوں کا خیال رکھنے کو کہا کہ میں آپ سب کے لیے پانی تلاش کر کے لاتا ہوں شاید ریل گاڑی میں کہیں مل جائے یا آس پاس کسی  مقام پہ پانی ہو۔
یہ کہہ کر میں پانی کی تلاش میں چل پڑا۔

ٹرین میں جہاں جہاں چلتا گیا لوگ پانی کے لیے بلک رہے تھے ہر کوئی ہی پانی کی تلاش میں تھا۔ راستے میں جہاں جہاں پانی کے گڑھے نظر آتے وہ لاشوں اور خون سے بھرے پڑے تھے جن میں گدھ لاشوں کو نوچ نوچ کے کھا رہے تھے۔ ابھی پانی کی تلاش میں چند ہی ڈبے عبور کرکے گیا تھا کہ سکھوں اور ہندوؤں نے ریل گاڑی پر بھی حملہ کردیا۔

ننگی تلواریں لیے مسلمانوں کے خون کے پیاسوں نے نہ بچے دیکھے نہ بزرگ دیکھے نہ عورتوں کو دیکھا۔ جو سامنے آیا کٹتا گیا۔ میرے لیے اس سے بڑے کرب کی بات کیا ہوگی کہ جوان بیٹیوں کی عصمتیں انکے بے بس و لاچار والدین کے سامنے لٹ گئیں، ماں باپ دیکھتے رہے اور ظالم جوان بیٹیوں کے تن سے کپڑے پھاڑتے رہے کسی کو اٹھا کر ریل سے نیچے پھینک دیا گیا۔

ماؤں کی گود میں بچے ذبح کردیے گئے۔ جن شیرخواروں کو ماں کا دُودھ نصیب تھا ان ماؤں کے سینے تک کاٹ دیے گئے۔ ریل لاشوں سے بھری تھی ، خون پٹریوں پہ پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔ سکھ اور ہندو جب ہماری طرف بڑھے تو مجھے وہاں ایک بھاری بھرکم شخص نے دھکا دیکر لاشوں پہ گرادیا۔ خود کو تب تک مردہ ظاہر کیے رکھا جب تک وہ چلے نہ گئے۔

میرے کانوں میں آج تک انکی آواز گونج رہی ہے۔ مت چھوڑنا کسی مسلے حرامزادے کو مت چھوڑنا، اس لڑکی کو لے جاؤ،فلاں سے بچہ لے جاؤ, گلے کاٹ ڈالو، کپڑے پھاڑ ڈالو اس مسلی کے، نیزے پہ ٹانگ دو سالے کو، نیچے پھینک دو کتے کو۔

ایسے ایسے کرب ناک جملے، ایسی ایسی چیخیں اج دس سال بعد میری سماعتوں سے ٹکرا کر مجھے ماتم پہ مجبور کرتی ہیں جی چاہتا ہے اتنی شدت سے چیخوں کہ میرا دل پھٹ جائے۔ جب وہ اتر گئے تو میں فوراً اپنے چچازادوں کی طرف بھاگا جنہیں ایک بزرگ کے پاس چھوڑ آیا تھا۔

وہ بزرگ ایک کونے میں کٹے پڑے تھے ان کی بیوی بچے مارے گئے لیکن میرے چچازاد وہاں نہیں تھے۔ آہ میرا آخری سہارا۔ بہت ڈھونڈا آس پاس کے سارے ڈبوں میں ساری لاشیں پلٹ ڈالیں لیکن وہ نہیں ملے۔ نہیں معلوم ان کو زندہ ساتھ لے گئے یا دوسرے بچوں کے ساتھ مار کر چلتی گاڑی سے نیچے پھینک دیا، بچے پانی کی ایک گھونٹ کو ترس کے کٹ گئے۔

رات کی گھپ تاریکی، خون آلود لاشوں سے لدھی گاڑی ، پہلے موت کی چیخ و پکار اور اب عالمِ ہو کی سی گہری خاموشی کے عالم میں کسی وقت ہمیں صبح کی آذان سنائی دی۔ یہ آذان لاہور اسٹیشن پر دی جارہی تھی۔اس آذان کےبعد جو ایک آواز میں نے سنی وہ تھی اللہ اکبر ہم اپنے وطن پاکستان کی سرزمین پہ قدم رکھنے والے ہیں لاہور آچکا ہے۔

لاشوں کے ڈھیر پہ بیٹھے،خون سے اٹے ہمارے پرمژدہ سے چہرے کھل سے اٹھے ساری رات کا ماتم ساری رات اپنوں کو یاد کرکے کرب و درد سے بہتے آنسو اب خوشی کے آنسو بن کے بہنے لگے، خشک حلق سے بڑی مشکل سے اللہ اکبر، پاکستان زندہ باد کی صدائیں بلند ہوئیں۔ ریل گاڑی رفتہ رفتہ رکی اور ہمیں بتایا گیا لیجئے لاہور آ گیا ہے۔

ہمارے قدم شہیدوں کے خون سے لت پت تھے شاید اللہ بھی یہی چاہتے تھے کہ جب ہمارے قدم ہندوستان کی ناپاک دھرتی سے پاکستان کی پاک سرزمین پر پڑیں تو انہیں غسل دیا گیا ہو۔ اسلیے اللہ نے ہمارے ناپاک قدموں کو اس پاک دھرتی پر پڑنے سے پہلے شہیدوں کے پاک لہو سے غسل دے دیا تھا۔

ہم ریل سے نیچے اترے سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کرنے کو سجدہ ریز ہوئے کہ اب ہماری آنے والی نسلیں ایسا کوئی غم نہیں دیکھیں گی جو ہم دیکھ کے آئے ہیں۔ میں سکتے کے عالم میں نہ جانے کیسے یہ سب سوچ رہا تھا جب کہ میری حالت ایک بے جان لاش کی سی تھی۔

اپنے وطن کے شریں پانی کے چند گھونٹوں نے میرے اندر اتنی زندگی پھونک دی تھی کہ میں اتنی حرکت کر سکوں کہ پلیٹ فارم تک جاسکوں۔ میں اور میرے چند ساتھی (یہ وہ چند ساتھ تھے جن میں میرے پرنانا ابو بھی تھے میرے پرنانا کی خوش قسمتی تھی کہ ان کے رشتہ دار لاہور میں تھے تو اگست کے اوائل میں ہی فسادات کے سبب انہوں نے فیملی کو لاہور بھیج دیا تھا) ہم خود کو کھینچ تان کے بمشکل پلیٹ فارم تک آئے اور یہیں ڈیرہ ڈال دیا۔

شروع سے آخر تک تمام گاڑیاں لہو سے رنگین تھیں کوئی گاڑی ایسی نہ تھی جو اپنے مسافروں کو سلامت لیکر پہنچی ہو۔ ہر طرف ایک عجیب دکھ اور کرب کا منظر تھا سب ہی لہولہان تھے، کوئی خاندان ہم نے ایسا نہیں دیکھا جو صحیح سلامت ہو، کسی  ماں باپ کو  ہم نے ایسا نہیں دیکھا جنکی گودیں نہ اجڑی ہوں۔ مجھ جیسے ایسے ہزاروں خاندان تھے جنکا کوئی نہیں بچا۔
پلیٹ فارم پہ میرے پاس جو چند ایک کپڑے اور ہاتھ لگی کچھ تصویریں جو میں اپنے ساتھ لے آیا تھا وہ دکھا دکھا کر پوچھتا رہا لیکن کسی کو خبر نہیں تھی نہ میرے بیٹی کی نہ میرے بہن بھائی کی نہ میرے دو زندہ بچے چچازادوں کی۔اور نہ ہی میرے ننیھال میں سے کوئی آیا نہ ہی ددھیال سے۔

سب لوگ خود اپنی افراتفری میں ادھر اُدھر بھاگتے پھر رہے تھے۔ میں پاکستان آنے والی آخری ریل گاڑی تک وہاں موجود رہا۔ کئی دن تک میں پلیٹ فارم پر اس انتظار میں پڑا رہا۔

اپنے وطن کی دکھ اور درد میں ڈوبی پہلی عید ہم سب نے اپنوں کی راہ تکتے پلیٹ فارم پر بسر کردی کہ شاید میرے خاندان کا کوئی فرد مجھے آملے، شاید میرے کھوئے ہوئے بچے مجھے آملیں کوئی اپنا آملے۔ میرے ساتھی جن کا میں ہمیشہ شکر گزار رہوں گا وہ میرے ساتھ موجود رہے بس وہی شاید میرا خاندان تھا۔

میرا ایک ساتھی (میرے پرنانا جی) کا لاہور میں خاندان رکا ہوا تھا وہ چند ہفتوں تک روز میرے ساتھ میرے بچوں کی تلاش میں صبح سے رات تک اسٹیشن پہ انتظار کرتے رہتے لیکن کوئی نہیں آیا۔ پھر میرے ساتھیوں کے اصرار پہ مجھے وہ اپنے گاؤں لے آئے۔

لاہور میں انہوں نے اپنے رشتہ داروں کو کہہ رکھا تھا جو ہر روز اسٹیشن جاکر میرے بچوں کی خیر خبر لیتے رہے لیکن آج پاکستان بننے کے دس سال بعد بھی نہ کوئی آیا اور نہ کسی کی کوئی خیر خبر آئی.

گاؤں آنے بعد اب لوگ اپنے معمولات کی جانب رواں دواں ہوگئے۔ میں کسی پہ بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا تو میں نے اسی ہی گاؤں میں اپنے گزر بسر کے لیے جھونپڑی بنالی اور رات کو چٹائیاں بنتا ہوں اور دن میں چٹایاں بیچ کر گزر بسر کر رہا ہوں۔ رات کو جب اپنوں کی یاد مجھے رلاتی ہے تو میرا رواں رواں روتا ہے۔ جو دنیا سے جاچکے تھے انکی تکلیف سے ذیادہ انکا دکھ ہے جو زندہ ہی کہیں کھو گئے۔ میرے بچے میں کبھی نہیں بھول پاؤں گا۔

(بیچ کے کچھ سال درمیان میں چھوڑ رہا ہوں)

تاریخ: 26 مئی 1995
38 سال بعد اب جبکہ میں 70 سال کی عمر میں پہنچ چکا ہوں۔ آنکھوں کی بینائی کم پڑ چکی شاید کے مزید لکھنے کے قابل نہ رہوں۔ دہائیوں بعد ایک بار پھر آخری سطریں لکھنے لگا ہوں چراغِ زندگی نہ جانے کب گُل ہوجائے۔ آج اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں اپنے گھر میں عزت کی زندگی گزار رہا ہوں۔ اگر یہ ملک نہ ہوتا تو ہندوستان میں میرے ساتھ کیا سلوک ہوتا میں دیکھ آیا تھا۔ میرا سب کچھ لٹ چکا لیکن مجھے کوئی گلہ نہیں مجھے کسی سے شکوہ نہیں شاید میرے ساتھ ایسا نہ ہوتا تو مجھے اس آزادی جیسی نعمت کی قدر نہ ہوتی۔

میرے پاس اپنوں کی اور کوئی یاد نہیں بس ایک ڈائری اور میرے اپنوں کا لہو ہے۔ مجھے نہیں معلوم میں کہاں کس وقت کس طرح اس دنیا سے چلا جاؤں لیکن میری ایک خواہش ہے کہ جب میں مروں تو یہ سب کچھ میری قبر میں میرے ساتھ رکھا ہو۔ میں قیامت کے دن اٹھ کے اپنے رب کو بتاؤں گا کہ اے اللہ میں نے پاکستان کے لیے اپنا حصہ ڈالا تھا۔

یہ سب پڑھنے کے بعد میں اتنا رُویا کہ میرے آنسو خشک ہوگئے. میں اب بھی رو دیتا ہوں اب بھی سیسکیاں بندھ جاتی ہیں میں وہ چہرہ و درد بیاں نہیں کرسکتا میں انکی داستان کے ساتھ انصاف نہیں کر پا رہا کہ کیسے وہ درد اپنے لوگوں تک پہنچاؤں انہیں احساس دلاؤں.

وہ شخصیت کہ جنہیں میری ان آنکھوں نے دیکھا تھا وہ کہ جس نے اپنا سب کچھ قربان کردیا اس وطن کے لیے لیکن پھر بھی شکر گزار رہا، اسے حق تھا وہ گلہ کرتا وہ کہتا کہ پاکستان نے مجھے کیا دیا لیکن اس کی زبان پر شکر کا کلمہ جاری تھا۔

 اس دن ڈائری لیے اس عظیم ہستی کے پاس پہنچا، مجھے ساری زندگی ان چند لمحات پر فخر رہے گا جو میں نے ان کے ساتھ گزارے مجھے ان ساعتوں پہ فخر رہے گا کہ میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا، میرے کانوں نے انکے چند الفاظ سنے۔ بوجھل قدموں سے میں ڈائری اور سامان لیے واپس انکے پاس پہنچا تو وہ آنکھیں بند کیے بہتی آنکھوں سے کچھ بول رہے تھے شاید کسی کا نام لے رہے تھے۔

میں جا کہ ان کے پاس بیٹھ گیا کافی دیر بعد انہیں میری موجودگی کا احساس ہوا تو انہوں نے وہ تھیلا لینے کے لیے میری طرف ہاتھ بڑھا دیا میں نے جوں ہی تھیلا انہیں تھمایا انہوں نے وہ تھیلا اپنے سینے سے لگا لیا وہ کچھ بولنا چاہتے تھے لیکن ان میں سکت نہ تھی بس زاروقطار انکی آنکھیں بہہ رہی تھیں ہااااااااہ وہ صدیوں کا بیمار مرجھایا چہرہ.....

میں نے کہا آپکی طبیعت بہت خراب ہے میں نانا ابو کو بلاتا ہوں وہ ڈاکٹر ہیں ہم آپکو گھر لے کر جاتے ہیں لیکن انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے روکدیا کلمہ طیبہ کا ورد انکی زبان پہ پورا ہی ہوا کہ انکی گرفت میرے ہاتھ پر سے ڈھیلی ہو گئی. میں فوراً بھاگا اور نانا ابو اور کزنز کو ساتھ لیکر واپس آیا تاکہ انہیں ساتھ لے جائیں۔

میرے واپس آنے تک وہ عظیم ترین شخصیت وہ پاکستان کا عاشق وہ میرا محسن جو مجھے وطن کا عشق دے گیا وہ دیوانہ جہانِ فانی کو چھوڑ کر جان جاںِِ آفریں کے سپرد کرچکا تھا۔ میں اس دن بھی رویا میں آج بھی جب اس تحریر میں درستگی کر رہا تھا میں اب بھی رویا میں انہیں یاد کر کے ہمیشہ روتا رہوں گا.
انہیں انکی یادوں سمیت اپنے ان ہاتھوں سے سپردِخاک کیا.

اور کیا لکھوں یاررررر اب میرے پاس اور الفاظ ہی نہیں کیا لکھوں کیسے کہوں کہ ملک کے ساتھ برا نہ کرو آج ان کو فوت ہوئے 14 سال بیت چکے ہیں مگر آج بھی ان کے ذکر پہ رو دیتا ہوں میرا صبر میرا حوصلہ جواب دینے لگتا ہے میرا جسم کانپنے لگتا ہے. میرا کلیجہ پھٹنے لگتا ہے.میں نے جو دیکھا جو پڑھا میں کس منہ سے کس زبان سے یہ شکوہ کروں کہ مجھے پاکستان نے کیا دیا؟

ڈوب مرنا چاہیے ہم کم ظرفوں کو ہم اس ملک کے ساتھ کیا کر رہے ہیں کوئی شعیہ ہے کوئی سنی ہے کوئی ایرانی ہے تو کوئی سعودی ہے کوئی افغانی ہے تو کوئی بنگالی کہاں ہیں پاکستانی مرگئے ہیں شاید اسی بابا کے ساتھ دفن ہوگئے سب پاکستانی. کاش ہمیں کچھ تو احساس ہوتا کبھی غور تو کرتے کہ کس طرح یہ ملک حاصل کیا گیا کتنے سر کٹے، کتنی عصمتیں لٹیں، کتنے بچے نیزے پہ چڑھے یاررررر یہ تو ایک شخصیت کی داستان ہے کہ میری رُوح کانپ گئی ایسی تو ہزاروں لاکھوں داستانیں ابھی ہمیں معلوم ہی نہیں۔
ہم بہت بدنصیب ہیں ہمیں یہ وطن مل گیا اور ہم نے اس وطن کو دشمنوں سے بڑھ کر نقصا ن پہنچایا، کبھی مذہب کے نام پر، کبھی سیاست کے نام پر، کبھی مفاد کی خاطر ہم نے ہر طرح اس ملک سے دشمنی کی۔

آج جب ملک کو بدترین مقام پہ لا کھڑا کیا تو کہتے ہیں پاکستان ایسا پاکستان ویسا ہم بدقسمت یہ نہیں سُوچتے کہ پاکستان بنانے والے تو "باباپاکستانی" جیسے لوگ تھے ہمیں تو پاکستان کے لیے ایک کانٹا تک برداشت نہیں کرنا پڑا تو ہم نے پاکستان کو کیا دیا یار سوچو تو۔

اب ہم دن رات اس ملک میں بُرائیاں تلاش کرنے میں لگے ہیں اور منافقت ہم میں اس قدر بھر چکی ہے کہ کوئی اس ملک کا اچھا سُوچنے کی کوشش بھی کرے تو ہم اسی کا بُرا سوچنے اور چاہنے لگتے ہیں۔ بُرا پاکستان نہیں بُرے ہم ہیں پاکستان تو ایک زمین کا ٹکڑا ہے جس کی بنیادوں کو لاکھوں شہیدوں کے پاک لہو سے مضبوط کیا گیا تاکہ ہم جیسے کم ظرف لوگ اس کے اوپر اپنی ایک مضبوط عمارت تعمیر کرسکیں اور ہم نے کیا کیا یہ بتانے کی بالکل ضرورت ہی نہیں۔

یہ ہم پہ منحصر تھا کہ ہم نے اسے کیسا بنانا تھا  ہم نے اسے جیسا بنایا یہ بالکل ویسا ہی ہے مگر میں بہتے آنسوؤں کے ساتھ ان تمام لُوگوں سے ہاتھ جُوڑ کر ایک گزارش کرتا ہوں کہ ہماری پچھلی نسلوں نے اس ملک کا بہت بیڑا غرق کیا خدایا نئی نسل ہو نیا خون ہو اس ملک سے دشمنی نہ کرنا قیامت کے دن خدا، رسُولﷺ اور تحریکِ آزادی کے شہیدوں کو جواب دینا تو بہت دُور کی بات ہے ہم ایک "باباپاکستانی" تک کو جواب نہیں دے پائیں گےاس وطن کے بدلے جو کچھ اُنکا قربان ہوا ہم انکا بدلہ نہیں دے پائیں گے۔

آئندہ رشوت لینے سے پہلے، آئندہ اس ملک کو لوٹنے سے پہلے، آئندہ اس ملک کی عزت اور وقار کا سُودا کرنے سے پہلے، اپنے سیاسیوں کے نقشے قدم پر چلنے سے پہلے، ملک کو توڑنے والوں کی پشت پناہی سے پہلے، سعودی ایرانی افغانی ہونے سے ایک ایک ٹکے پہ ضمیر بیچنے سے پہلے اور سب سے بڑھ کر اس ملک کو گالی دینے سے پہلی "بابا پاکستانی" کو ضرور یاد کرلینا وہ اپنی قربانیوں کا ایک دن حساب مانگے گا۔


     *شعور پاکستان فیملی گروپ*

Post a Comment

0 Comments